‘پولیس نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر حلیم عادل شیخ کو گرفتار کیا’ مرتضیٰ وہاب خط اورتصاویر میڈیا کے سامنے لے آئے

  سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حلیم عادل شیخ کو پولیس نےخود گرفتار نہیں کیا بلکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 16 فروری کو ایس ایس ایس پی ملیر کے نام پر خط لکھا گیا کہ حلیم عادل شیخ نے 16 فروری کو ملیر میں پولنگ سٹیشن کا دورہ کیا ، وہ اسلحہ کے ساتھ لیس ہو  کر اپنے پرائیویٹ گن مینوں  کے ساتھ پولنگ سٹیشن پہنچےتھے۔ پولیس نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی اور گرفتاری عمل میں لائی گی۔

حلیم عاد ل شیخ کی گرفتار ی پر وزیراطلاعات سندھ ناصرشاہ کے ہمراہ مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کوئی الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کرےتوکیاپولیس خاموش رہے؟  پولیس قانون کےمطابق کارروائی کررہی ہے۔ کیاپی ٹی آئی اراکین پرقوانین کااطلاق نہیں ہوتا؟ الیکشن کمیشن احکامات پرعملدرآمدکراناسرکاری افسرکی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ ایف آئی آرمیں نامزدملزم ہیں، پولیس کوپتہ تھایہ بیان بازی کریں گےاس لیےانہیں کمرےمیں رکھاتھا۔ عدالت نےپولیس کوحلیم عادل شیخ کاریمانڈ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 اور 19 فروری کو حلیم عادل شیخ کو ملنے10 افراد آئے ، اگر پولیس ان کے خلاف ہوتی تو کیا 10 لوگ ان سے ملاقات کے لیے آسکتے تھے؟  بڑی عجیب بات ہے کہ چار فٹ کا کوبرا ان کے لاک اپ میں آیا جو ہر طرح سے بند تھا پھر اچانک وہاں ڈنڈا بھی آگیا اور حلیم عادل شیخ نے اس چار فٹ کے ڈنڈے سے چار فٹ کےسانپ کو مار بھی دیا۔ اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ سانپ وہاں کس نے چھوڑا اور وہ ڈنڈا وہاں کیسے پہنچا؟ کسی پولیس اہلکار نے یا پھروہ جو 10 لوگ ان سے ملنے کےلیے آیا۔