اسامہ ستی قتل کیس،پولیس اہلکار واقعہ کو چھپانے کے لئے کیا کیا کرتے رہے؟جوڈیشل انکوائری میں اہم انکشافات سامنے آگئے

)اسامہ ستی قتل کیس کی تحقیقات کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ  موقع پر پہنچنے والے پولیس افسران نے ثبوت مٹانے کی کوشش کی ،پولیس نےوقوعہ کوڈکیتی بنانےکی کوشش کی،پولیس کنٹرول نےطبی امداد دینے کے لئے آنے والی ریسکیو ٹیم کو بھی غلط ایڈریس بتایا۔

جیو نیوز کے مطابق جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پولیس افسران کو اندھیرے میں رکھا گیا،اسامہ ستّی کی لاش کوپولیس نےسڑک پررکھے رکھا،موقع پر موجود افسر نے جائے وقوعہ کی کوئی تصویر نہیں لی ،اسامہ ستّی کا کسی ڈکیتی یا جرم سے کوئی واسطہ ثابت نہیں ہوا،ڈیوٹی افسرغیرذمےداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کا حصہ بن گیا،گولیوں کے18 خولوں کو 72 گھنٹے بعد فرانزک کے لیے بھیجا گیا،اسامہ ستّی کی گاڑی پر 22 گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی ۔