سی سی پی او لاہور کوکیوں تبدیل کیا؟ وزیر اعظم عمران خان کھل کر بول پڑے

 وزیر اعظم عمران خان کا کہنا  ہے کہ کارکردگی نہ دکھانے والے افسران کو تبدیل کیا جاتا رہے گا، شریف خاندان 30 سال تک حکمران رہا، بہت سے افسروں کی ان کے ساتھ سیاسی وابستگی ہوچکی ہے، دہائیوں کی خرابی فوری ٹھیک نہیں ہوجائے گی اس میں وقت لگے گا۔

ڈیلی پاکستان کی نمائندہ دعا مرزا نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ ’آپ نے سی سی پی او سب کی مخالفت کے باوجود لگایا اور پھر اچانک تبدیل کیوں کر دیا،   دوسری طرف پولیس گردی کے واقعات بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں. اسامہ ستی قتل کیس حال ہی میں رپورٹ ہوا ہے جبکہ لاہور کے علاقے نولکھا میں بھی ایک روز قبل پولیس نے گھر میں گھس کر خواتین پر تشدد کیا، پولیس افسران ایک دوسرے سے باغی نظر آتے ہیں، یہ ہو کیا رہا ہے؟‘

وزیر اعظم پاکستان نے دعا مرزا کے سوال کے جواب میں کہا کہ کہ کارکردگی نہ دکھانے والوں کو تبدیل کیا جاتا رہے گا، نئے سی سی پی او کو دیکھیں گے کہ وہ کیا کرتے ہیں، ہم صرف کارکردگی چاہتے ہیں،جو کام نہیں کرے گا وہ تبدیل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس اور بیوروکریسی سیاست زدہ تھی، پولیس کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں، نوازشریف نے ہزاروں مجرموں کو پولیس میں بھرتی کیا، لاہور ہائی کورٹ میں آئی جی عباس خان نے مکمل رپورٹ جمع کرائی تھی، شریف خاندان 30 سال پنجاب پر مسلط رہا، کئی بیوروکریٹس کی ان سے سیاسی وابسگتی ہوچکی تھی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیا ادارہ بنانا آسان ہے، پہلے ادارے کو ٹھیک کرنا مشکل ہوتا ہے، پولیس کو ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، یہ نہ سمجھیں کہ کئی دہائیوں کی خرابی ایک دم ٹھیک ہوجائے گی، موٹروے پولیس بعد میں بنی لیکن ان کی کارکردگی پنجاب پولیس سے مختلف ہے۔