کالعدم داعش اب تک کتنے ہزار پاکستانیوں کو ٹریننگ دے چکی ہے؟ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کا تہلکہ خیز انکشاف

پاکستان پیپلز پارٹی کےمرکزی رہنمااور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ سانحہ مچھ پر دل خون کا آنسو رو رہا ہے،سانحہ مچھ کا واقعہ صرف اہل تشیع نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے، افسوس کہ آج چھٹا دن ہے اور شہداء اب تک دفن نہیں ہو سکے،حکومت وقت سے اپیل ہے کہ سانحہ مچھ کو نظر انداز نہ کیا جائے،اپنی کتابوں میں، میں نے کئی بار تذکرہ کیا کہ پاکستان میں داعش بڑھ رہی ہے،کالعدم دہشت گرد تنظیم’داعش‘ نےپاکستان کے ساٹھ ہزار نوجوانوں کی ٹریننگ کی ہے،وزیراعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ اَنا کو ایک طرف رکھیں اور فوری کوئٹہ جائیں جبکہ سانحہ مچھ پر  سپریم کورٹ کے جج کے زیر صدارت جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے سانحہ مچھ  کیخلاف احتجاجی دھرنے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس نےبھی ایسی دہشت گردی کی وہ پاکستان میں شیعہ سنی فساد پیدا کر رہا ہے، کالعدم دہشت گرد تنظیم’داعش‘  کا طریقہ کار گلہ کاٹنا ہوتا ہے،پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی  سو سے زائد شیعہ دوست شہید ہوئے،پہلی بار بتا رہا ہوں کہ تب میں نے کہا تھا کہ شیعہ برادری سے مشاورت کرکے حل نکالا جائے،موجودہ سانحہ مچھ پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔اُنہوں وزیراعظم کومخاطب کرتےہوئےکہاکہ عمران خان آپ پاکستان کے ہر فرقے کے وزیراعظم ہیں،سانحہ مچھ کے لواحقین کا چھوٹا سا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم ہمارے پاس آئیں،حکومت وقت سے اپیل ہے کہ سانحہ مچھ کو نظر انداز نہ کیا جائے،سانحہ مچھ پر  سپریم کورٹ کے جج کے زیر صدارت جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،جوڈیشل کمیشن میں چاروں صوبوں کے ہائی کورٹ کے جج شامل کئے جائے، بطور چیرمین سینٹ کمیٹی برائے داخلہ میں نے سانحہ مچھ کا پہلے دن نوٹس لیا تھا، صدرِ مملکت یا وزیراعظم میں سے کسی کو کوئٹہ میں موجود ہونا چاہیے تھا،جب سانحہ مچھ پر کمیشن قائم ہوگا تو دیکھنا ہوگا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم ’داعش‘  کے پاکستان میں کہاں کہاں مراکز ہیں؟میری معلومات کے مطابق چین ، پاکستان اور ایران کے حوالے سے ’داعش‘  نے پلان کیا ہے،امید ہے حکومت پاکستان سانحہ مچھ کی مکمل تحقیقات کرے گی،کیا مچھ میں جب واقعہ پیش آیا تو تب سیکیورٹی سوئی ہوئی تھی؟پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں عوام کی حفاظت کے لیے ہوتی ہیں،سانحہ مچھ پر ایک کیا کئی جے آئی ٹی بننی چاہیے تھیں،سانحہ مچھ پر جو بھی کمیشن بنے وہ بظاہر دکھانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو خط اور ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ سانحہ مچھ پر نوٹس لیں،وزیراعظم کو چاہیے کہ جلد جہاز میں بیٹھیں اور کوئٹہ چلے جائیں،آج شیعہ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے تو میں بتا رہا ہوں کہ کل سنیوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی،سانحہ مچھ کے لواحقین چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آئیں اور ان کی مشکلات سنیں،کہنا آسان ہے لیکن جس کا بیٹا شہید ہوا ہے اس سے پوچھنا چاہیے،بہت ہی بھاری دل سے میں اسلام آباد کے مظاہرین کے پاس آیا ہوں،میری حکومت سے اپیل ہے کہ سیاسی کشیدگیوں کو فی الفور ختم کیا جائے اور