لاہور میں دو بہنوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کے سنسنی خیز انکشافات

 کاہنہ میں دو بہنوں کی لاشیں ملنے کے بعد گرفتار ہونے والے ملزمان نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔ایکسپریس نیوز کے ذرائع کے مطابق کاہنہ میں سگی بہنوں کے دہرے قتل کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے اور گرفتار ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا۔پولیس ذرایع سے ملزمان کا پولیس کو ابتداءبیان بھی منظر عام پر آ گیا ہے جس کے مطابق ملزم نعیم نے بتایا ہے کہ اس کی ساجدہ کے ساتھ دوستی تھی اور مقتولہ ساجدہ نے اسے گھر بلایا تھا۔

ملزم کا کہنا ہے کہ مقتولہ ساجدہ نے مجھے گھر بلا کر میری غیر اخلاقی ویڈیو بنائی۔ مقتولہ مجھے ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرتی تھی۔ میں نے فیکٹری ورکر اعجاز کے ساتھ مل کر ساجدہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

گرفتار ملزم کا کہنا تھا کہ مقتولہ ساجدہ نے سسر کے چالیسویں کے لیے مجھ سے دس ہزار ادھار مانگا۔ میں نے ساجدہ کو پیسے دینے کیلیے سوئے آصل کھیتوں کے پاس بلایا جہاں ساجدہ اپنی بہن عابدہ کو بھی ہمراہ لائی۔

اعترافی بیان میں ملزم نے بتایا کہ سوئے آصل کھیتوں میں ہم نے دونوں بہنوں کو رسیوں کے ساتھ باندھا اور باندھنے کے بعد گلہ دبا کر انہیں قتل کر دیا۔ قتل کے بعد دونوں ک لاشیں نالے میں پھینک دیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کاہنہ سے دو شادہ شدہ بہنوں کی لاشیں نالے سے برآمد ہوئی تھیں۔ دونوں بہنیں 26 نومبر سے لاپتا تھیں۔ لاشیں ملنے کے بعد آئی جی پنجاب کی ہدایت پر سی سی پی او نے کیس کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھانے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی اور اب گرفتار ملزمان کا ابتدائی بیان سامنے آگیا ہے۔