جب زرداری صدر تھے اور ہزارہ برادری نے دھرنا دیا تو عمران خان نے کیا کہا تھا؟ جان کر وزیراعظم کو بھی اپنے آج کے بیان پر بے حد افسوس ہوگا

 وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے افراد اپنے پیاروں کی تدفین کردیں تو وہ اسی وقت کوئٹہ آجائیں گے اور لواحقین سے ملاقات کریں گے لیکن ایسے کسی ملک کے وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا، لیکن اب ان کی پرانی ویڈیوز انٹرنیٹ پروائرل ہوگئی ہیں جن میں سے ایک ویڈیو آصف علی زرداری کے دور حکومت کی ہے ۔ یہ ویڈیو شیعہ کمیونٹی کے لوگوں کے قتل اور دھرنے کے موقع پر خطابات کی ہیں۔

ویڈیو میں اس وقت کے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سنا جاسکتاہے  کہ بسوں سے نکال کر کوئٹہ میں شیعہ کمیونٹی کے لوگوں کو مارا جارہاہے ،ہماری حکومت آنے دو ، ہماری حکومت کبھی ایسا نہیں کہے گی کہ یہ بیرونی عناصر ہیں، یہ باہر سے آگیا ہے، باہر سے آئے یا اندر سے ہم ان لوگوں کو آپ کو ختم کرکے دکھائیں گے ۔ 

ایک اور ویڈیو میں ان کا کہناتھاکہ “ان کو حکومت میں رہنے کا جواز نہیں بنتا، آصف علی زرداری ذمہ دار ہے ، وہ اس ملک کا صدر ہے ، اس نے اپنے کرپٹ آدمی کو  جو رینٹل پاور کیس میں ملوث ہے، اسے وزیراعظم بنایا ہواہے ،  وہ کیا کررہاہے؟ کتنی دفعہ بلوچستان ، فاٹا، سوات  یا پختونخوا گیا جہاں پاکستانی مچھروں کی طرح مررہاہے ، ان لوگوں کی طرف کیوں نہیں آتے جو بے چارے لاشیں لے کر بیٹھے ہیں۔ 

یادرہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ مطالبات تسلیم ہونے کے بعد کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جاسکتا، آج تدفین کریں تو آج ہی کوئٹہ آکر لواحقین سے ملاقات کروں گا۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہناتھاکہ ہزارہ کمیونٹی پر بہت ظلم ہوا، قتل ہوئے ، پاکستان میں کسی اور کمونٹی پر اس طرح ظلم نہیں ہو ا اور پہلےبھی  کئی دفعہ جا چکا ہوں، ان لوگوں میں خوف بھی دیکھا ہوا ہے ، اب  مچھ میں کوئلہ کی کانوں  پر  گیارہ مزدوروں کو بڑی بے دردی سے قتل کیاگیا، یہ اس سازش کا حصہ ہے جو پچھلے مارچ سے پہلے کابینہ اور پھر عوامی بیانات میں بتا چکا ہوں کہ  ہندوستان مذہبی فسادات کی سازش کررہاہے ، شیعہ اور سنی علماء کو قتل کرنااور پھر ملک کے اندر انتشار کی کیفیت پھیلاناچاہتا ہے، پاکستان کی ایجنسیوں نے چار بڑے بڑے واقعات کو روکا، پھر کراچی میں ہائی پروفائل سنی عالم کا قتل کردیاگیا اور ایک آگ بڑی مشکل سے روکی۔

انہوں نے بتایا کہ “اس کا اندازہ تھا مچھ میں جو ہوا، میں نے وزیرداخلہ کو کوئٹہ بھیجا، پھر مزید دو وزراء کو بھیجا کہ ہزارہ کمیونٹی کو بتانے کے لیے کہ یہ حکومت ان کیساتھ کھڑی ہے ، پتہ ہے  خاص طور پر مجھے کہ کس طرح ان پر ظلم ہے ، یقین دہانی کرائی “۔ ان کا کہناتھاکہ  لواحقین کے گھروں میں کمانےو الے مار دیئے گئے ، ان کو  دھیان رکھنے کی یقین دہانی کرائی ، کل تک سب مطالبات مانے جاچکے ہیں، ان کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ  وزیراعظم آئیں تو ہم لاشوں کو دفنائیں گے ، میسج دیا کہ سب مطالبات مانے گئے تو یہ ڈیمانڈ ٹھیک نہیں، کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے، اس طرح ہوا تو ہر کوئی بلیک میل کرے گا۔

عمران خان کا مزید کہنا تھاکہ ڈاکوئوں کا ٹولا بھی کہ اڑھائی سال سے بلیک میل کررہا ہے کہ حکومت گرادیں گے، ان کو (مرحومین کے لواحقین کو)  کہاہے کہ جیسے ہی اپنے پیاروں کو دفنائیں گے تو کوئٹہ آئوں گا اور لواحقین سے ملوں گے،اس پلیٹ فارم سے پھر کہہ رہا ہوں آج دفنائیں گے تو آج ہی آوں گا،  ملوں گا، مطالبات مان لیے گئے تو پھر شرط کی سمجھ نہیں آتی،  پہلے آپ دفنائیں تو میں گارنٹی کرتا ہوں کہ آج ہی ملوں گا۔