ٹرمپ کے حمایتوں کا کانگریس پر حملہ، تین گھنٹے کے بعد حالات قابو کر لیے گئے، اجلاس دوبارہ شروع

امریکی صدر ٹرمپ کے حمایتوں کے کانگریس پر حملے اور ہنگامے کے بعد پولیس نے عمارت کو کلیئر کر دیاہے اور ایک مرتبہ پھر سے جوبائیڈن کی جیت کی توثیق کیلئے نائب صدر مائیک پینس کی زیر صدارت اجلاس دوبارہ شروع ہو گیاہے ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایتوں نے اپنے رہنما کی واضح شکست کو تبدیل کرنے کیلئے کانگریس پر حملہ کیا اور نو منتخب جوبائیڈن کی جیت کی توثیق کیلئے جاری اجلاس کو کئی گھنٹوں تک ملتوی کر وا دیا ۔

امریکی جمہوریت کی 200 سالہ تاریخ میں یہ انوکھا ترین واقعہ ہے جب بڑی تعداد میں مظاہرین کانگریس پر حملہ آور ہوئے اور وہ سیکیورٹی کی تمام حدود کو روندتے ہوئے عمارت میں داخل ہو گئے ۔پولیس کا کہناہے کہ اس دوران گولیاں لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ تین افراد کی موت میڈیکل ایمرجنسی کے باعث ہوئی تاہم اب تک 52 افراد کو حراست میں لے لیا گیاہے

مظاہرین نے عمارت میں داخل ہو کر نمائندوں کے چیمبرز کے دروازوں زور زور سے پیٹا تاہم اس دوران نمائندں کی حفاظت کیلئے سیکیورٹی اہلکاروں نے فرنیچر کو دروزوں کے آگے رکھ کر رکاوٹ کھڑی کی اور ساتھ ہی اسلحہ تان کر کھڑے ہوگئے تاکہ نمائندوں کو باہر نکالا جا سکے ۔

تاہم کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اور کانگریس کا کنٹرل سنبھالتے ہوئے کلیئرنس کے بعد اب دوبارہ جوبائیڈن کی جیت کی توثیق کیلئے نائب صدر مائیک پینس کی زیر صدارت اجلاس شروع ہو گیاہے ۔

اجلاس کو دوبارہ شروع کرتے ہوئے نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ ” یہ ان لوگوں کیلئے جنہوں نے آج کیپٹل ہل میں تباہی مچائی ، تم کبھی جیت نہیں سکتے ۔“ نائب صدر نے ان کلمات کی ادائیگی کے ساتھ ہی کہا کہ ” چلیں کام واپس شروع کرتے ہیں ۔“اس موقع پر نائب صدر کے انداز پر تالیاں بجا کر داد دی گئی ۔

پولیس نے ٹرمپ کے حمایتوں کو کیپٹل ہل کا قبضہ چھڑانے کیلئے تین گھنٹوں تک کڑی محنت کی اور شام ساڑھے پانچ بجے کام مکمل کرنے کے بعد گرین سگنل دیدیا گیا ۔امریکہ میں ہونے والے ہنگامے کی وجہ امریکی صدر ٹرمپ کا الیکشن میں دھاندلی کا بے بنیاد دعویٰ بنی جبکہ ٹرمپ نے اپنے ووٹرز سے ہار کو تبدیل کرنے کیلئے مدد کی اپیل بھی کی تھی ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن سے قبل شکست کی صورت میں اقتدار کی پر امن منتقلی کے تاثر کو زائل کر دیا تھا ، انہوں نے وائٹ ہاﺅس کے قریب اپنے سپورٹرز سے خطاب کے دوران اپنے غصے کے اظہار کیلئے کیپٹل کی طرف مارچ کرنے کہا تھا ۔انہوں نے اپنے سپورٹرز کو کہا کہ وہ منتخب حکام پر دباﺅ ڈالیں کہ وہ نتائج کو مسترد کر دیں ، ٹرمپ نے اپنے سپورٹرز کو لڑنے کیلئے بھی کہا ۔