ٹرمپ کے حامیوں کا کانگریس کی عمارت پر دھاوا، واشنگٹن میں کرفیو نافذ

 صدر ٹرمپ کے حامیوں کے پُر تشدد مظاہروں اور کانگریس کی عمارت پر پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد امریکی دارالحکومت میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جب کہ مظاہرین کیپیٹل ہل میں داخل ہونے کے باعث کانگریس کا مشترکہ اجلاس روک دیا گیا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے میئر میوریل باوزر نے ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے پرُتشدد مظاہروں کے بعد 24 گھنٹے کے لیے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اعلان کے مطابق میئر کی جانب سے مجاز افراد کے علاوہ  کسی شخص کو کرفیو کے دوران نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ کرفیو کا اطلاق واشنگٹن کے ہر گلی، محلے، پارک اور عوامی مقامات  پر بھی ہوگا۔

واضح رہے کہ آج امریکی کانگریس صدارتی انتخابات میں دیے گئے الیکٹورل ووٹوں کی توثیق کررہی ہے۔ جس کے لیے کانگریس میں نائب صدر مائیک پینس کی صدارت میں اجلاس جاری ہے۔ دوسری جانب امریکی دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں  میں ٹرمپ کے حامی انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی ایسی ہی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے نائب کے ممکنہ فیصلے سے متعلق مایوسی کا اظہار کردیا تھا۔