مریم نواز نے ہزارہ برداری کے مظاہرے میں جا کر وزیراعظم عمران خان سے بڑا مطالبہ کردیا

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے مطالبہ کیاہے کہ وزیراعظم کوئٹہ آکر مچھ سانحہ کے لواحقین کے سرپر ہاتھ رکھیں، یہ لوگ بھی ریاست کے شہری ہیں،ان کو مکمل تحفظ دیا جائے،عمران خان اپنے بچوں کو سامنے رکھ کر اِن کی تکلیف محسوس کریں، آپ ایک باپ اور بہنوں کے بھائی بھی ہیں،لوگوں کے غم میں شریک ہونا وزیراعظم کی ذمہ داری ہے۔

تفصیلات کےمطابق مریم نواز شریف ہزارہ برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کوئٹہ پہنچیں اور وہاں  اُنہوں نے دھرنے کے شرکاء سے بات چیت کرتےہوئےکہاکہ آپ کےپیارےآپ سےچھین لیےگئے،میں آپ سے دلی تعزیت کرتی ہوں،میرے پاس آپ کی دلجوئی کیلئے کوئی الفاظ نہیں،جس پر گزرتی ہےصرف وہی جانتا ہے،میرے والد نےآپ لوگوں کیلئے خصوصی سلام بھیجا ہے،صرف ہم نہیں پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے،ایک بچی ٹی وی پرکسی بےحس کوپکاررہی تھی لیکن افسوس جس کو پکارا جارہا ہےاُنکے پاس وقت نہیں ہے،میں حکومت میں نہیں،آپ کیلئے سوائے آواز اٹھانے کےکچھ نہیں کرسکتی ،اقتدار کی کرسی پر بیٹھے شخص پر افسوس ہے جو تنقید کے ڈر سے یہاں نہیں آ رہا لیکن اُن کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کے غموں میں شریک ہو۔

مریم نوازشریف نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ خدا کے لیے ریاست کےشہریوں کوتحفظ دیاجائے، ریاست ماں جیسی ہوتی ہے،آپ نےیہ حق ادانہیں کیا، کیاہزارہ برادری کی لاشوں سےآپ کی اَنابڑی ہے؟ ہزارہ کےلوگوں کوآزادانہ نقل وحرکت کی اجازت نہیں، ہزارہ برادری کے دو ہزارسےزائدلوگ شہیدہوچکےہیں، سانحہ مچھ میں غریب کان کنوں کے گلے کاٹے گئے، تصاویر نہیں دیکھی جا سکتیں،ہزارہ برادری کے لوگوں کو محدود کیا جا چکا ہے اورانھیں آزادانہ نقل وحرکت کی آزادی نہیں ہے۔