امریکی کانگریس میں گھس کر لوٹ کھسوٹ کرنے والے کون تھے ؟ ’ حملہ آوروں ‘ کی تفصیلات سامنے آ گئیں

بدھ کی صبح امریکی نائب صدر مائیک پینس کی زیر صدارت کانگریس میں مشترکہ اجلاس جاری تھا جس دوران انتخات میں دیئے گئے الیکٹورل ووٹس کی توثیق کی جارہی ہے اور جوبائیڈن کی کامیابی کا اعلان ہونے جارہاتھا لیکن اسی دوران امریکی صدر ٹرمپ کے حامی احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے اور کانگریس پر دھاوا بول دیا جس کے باعث اجلاس ملتوی کرنا پڑا اور تمام اراکین کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ۔

ٹرمپ کے حامیوں کے حملے سے صورتحال کشیدہ ہو گئی اور ہنگامے شروع ہو گئے ، پولیس نے روکنے کی بھر پور کوشش کی لیکن ناکام رہی اور مظاہرین کانگریس میں داخل ہو گئے ، جہاں چوری چکاری کے ساتھ ساتھ عمارت کو نقصان پہنچایا گیا جن کی تصاویر بھی اب سامنے آ گئیں ہیں اور شناخت کر لی گئی ہے ۔

 کانگریس پر حملہ آور ہونے والے کچھ افراد کی تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہیں جن میں ایک شخص کو دیکھا جا سکتاہے کہ اس نے سینگوں والی مخصو ص ٹوپی پہن رکھی ہے جبکہ اس کے جسم پر ٹیٹو بنے ہوئے ہیں ، اس32 سالہ نوجوان کانام ” جیک انجلی“ اور تعلق ایریزونا سے ہے ، جیک انجلی ” کیو انون ‘ (QAnon) کا ماننے والا ہے اور اپنا تعارف بطور گلوکار اور اداکار کرواتا ہے ۔جیک انجلی کو حالیہ دائیں بازو کی ریلیز میں بھی دیکھا گیا تھا جہاں اس نے اپنا یہی مخصوص لباس زیب تن کیا تھا ۔

” کیوانون “ (QAnon)کے ماننے والوں کا نظریہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ میڈیا ، بزنس اور حکومت میں شیطان کے ماننے والوںکے خلاف خفیہ طور پر جنگ لڑ رہے ہیں ۔یہ نظریہ رکھنے والے افراد نے افواہ پھیلائی ہے کہ ٹرمپ کی یہ لڑائی یوم حساب تک جائے گی جہاں مشہور شخصیات جیسے کہ سابق صدارتی امیدوار ہنری کلنٹن کو گرفتار کرتے ہوئے تختہ دار پر لٹکایا جائے گا ۔

یہ سب اکتوبر 2017 سے اس وقت شروع ہوا جب ایک پراسرار شخص نے ” فور چان “ ّ(4chan) نامی ویب سائٹ کے میسج بورڈ پر پیغامات کی بھرمار کر دی ، اس صارف نے ” Q “ کو بطور دستخط استعمال کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے پاس امریکی اعلیٰ سطحی سیکیورٹی کلیئرنس ” کیو کلیئرنس “ موجود ہے ۔ان پیغامات کو ” کیو ڈراپس “(Q drops) کے نام سے جانا جانے لگا، ان میں ٹرمپ کی حمایت میں بنائی گئی تصاویر اور نعرے درج تھے،، ان پیغامات کو لکھنے کیلئے خفیہ زبان کا استعمال کیا گیا ۔

کانگریس کی سپیکر نینسی پلوسی کی ٹیبل پر ٹانگیں رکھ کر نہایت بھونڈے انداز میں ہنستے ہوئے اس شخص کی شناخت ” رچرڈ برنیٹ “ کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر 60 سال ہے اور اس کا تعلق امریکی ریاست آرکنساس سے ہے ،اس شخص کا دعویٰ ہے کہ وہ 2022 میں اپنی ریاست کا گورنر ہو گا اور خود کو آن لائن سفید فام نیشنلسٹ کہتا ہے ۔

اس تصویر میں ہنستے ہوئے ہاتھ میں ڈائس اٹھا کر جاتے ہوئے شخص کا نام ” ایڈم جونسن“ ہے جو کہ امریکی ریاست فلوریڈا کی بریڈنٹن یونیورسٹی سے سائیکالوجی میں گریجویشن کر چکاہے ۔

ٹرمپ کے حمایتوں کے اس حملے کے دوران ایک خاتون اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی جس کی شناخت ابھی باقی ہے تاہم اس دوران کئی حمایتوں کی جانب سے سپیکر نینسی پلوسی کے ٹیبل پر دھمکی آمیز پیغاما ت بھی چھوڑے گئے ہیں جس میں کہا گیاہے کہ ” ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے “ ، پولیس نے اب تک کارروائیوں کے دوران 13 افراد کو گرفتار کر لیاہے ۔

یہ بوڑھی مائی بھی ٹرمپ کی حمایت میں باہر نکلی اور احتجاج میں شامل ہوئی جو کہ کانگریس میں حملے کی شکل اختیار کر گیا ، اس بوڑھی مائی کانام “لی این لک” نے”سٹیچو آف لبرٹی “ کی طرح کا حلیہ اختیار کیا ہواہے اور احتجاج میں جوبائیڈن کی کامیابی کے خلاف نعرے لگاتی دکھائی دیتی رہیں ۔