امریکی کانگریس میں افراتفری پھیل گئی،مظاہرین اندر داخل،خاتون کو گولی مار دی گئی،دنیا کی بہترین جمہوریت بڑا مذاق بن گئی

صدر ٹرمپ کے حامیوں کے پرتشدد مظاہروں اور کانگریس کی عمارت پر پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد امریکی دارالحکومت میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ مظاہرین کیپیٹل ہل میں داخل ہونے کے باعث امریکی کانگریس میں افراتفری پھیل گئی اور مشترکہ اجلاس روک دیا گیا،مظاہرے کے دوران فائرنگ سے ایک خاتون دم توڑ گئی ۔

مظاہرے کے دوران ہلاک ہونے والی خاتون کے شوہر نے بتایا کہ ایشلی امریکی فضائیہ میں 14 سال کام کا تجربہ رکھتی تھی اور صدر ٹرمپ کی بڑی حامی تھی، نیشنل گارڈ تعینات کردیئیے گئے اور مظاہرین سے تصادم مٰیں کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کے میئر میوریل باوزر نے ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کے بعد 24 گھنٹے کےلئے کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اعلان کے مطابق میئر کی جانب سے مجاز افراد کے علاوہ کسی شخص کو کرفیو کے دوران نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ کرفیو کا اطلاق واشنگٹن کے ہر گلی، محلے، پارک اور عوامی مقامات پر بھی ہوگا۔

ہنگامہ آرائی کے وقت امریکی ایوان نمائندگان میں سیکیورٹی سخت اور امریکی نائب صدرمائیک پنس،نینسی پلوسی کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا۔

 امریکا کے نو منتخب صدر جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ کو بغاوت کا ذمہ دار قرار دے دیا۔اپنے خطاب میں امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ آج امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، مظاہروں کا ڈرامہ امریکی عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں۔ انہوں نے کہا نمائندگان کو ہراساں کیا گیا، ووٹ کاتقدس پامال کیا گیا، یہ اختلاف نہیں لاقانونیت ہے، اسے ختم ہونا چاہئے۔انہوں نے اپیل کی کہ مظاہرین گھروں کو واپس چلے جائیں۔ جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ سے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے کرادار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔