پورے ملک کی ڈکیتیاں ایک طرف اور یہ مقدمہ ایک طرف ہے،سپریم کورٹ، سابق ڈی جی پارکس لیاقت قائم خانی کی درخواست ضمانت پرفیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے سابق ڈی جی پارکس لیاقت قائم خانی کی درخواست ضمانت پرفیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے کہاکہ لیاقت قائم خانی زمین منتقل نہ کرتے تو اربوں کاسکینڈل نہ بنتا، پورے ملک کی ڈکیتیاں ایک طرف اور یہ مقدمہ ایک طرف ہے۔

سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی پارکس لیاقت قائم خانی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ چوری ڈکیتی کے ملزمان کے مقدمات کے حوالے دے رہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ جو ڈکیتی ملک کیساتھ ہو رہی ہے ہمیں اس کی فکر ہے، ملک میں لوگوں کو سر درد کی دوائی تک نہیں مل رہی، ایسے حالات میں کرپشن ملزمان کیلئے دل کیسے بڑا کریں؟۔

 جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ وائٹ کالر کرائم کے ملزمان پر ہلکا ہاتھ کیوں رکھیں؟،آرٹیکل 10 اے کی غلط تشریح کی جا رہی ہے، ضمانت تب ہی ملتی ہے جب ٹھوس شواہد نہ ہوں،لیاقت قائم خانی کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ لیاقت قائم خانی پر صرف اعتراف نہ کرنے کا الزام ہے،عدالت نے کہاکہ لیاقت قائم خانی زمین منتقل نہ کرتے تو اربوں کاسکینڈل نہ بنتا، پورے ملک کی ڈکیتیاں ایک طرف اور یہ مقدمہ ایک طرف ہے،وکیل نے کہاکہ باغ ابن قاسم کا 7 ہزار 9 سو اسکوائر یارڈ کا رقبہ ڈی جی پارکس کے قبضے میں نہیں تھا،لیاقت قائم خانی کی عمر 70 سال ہے اور پندرہ ماہ سے جیل میں ہیں،عدالت نے کہاکہ پورے ملک کی ڈکیتیوں کے پیسے بھی جمع کر لیں تو آپ کے برابر نہیں بنتے،سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی پارکس لیاقت قائم خانی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا اورمزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔