’وقار یونس کوچ نہیں کمنٹیٹر، مصباح کو کسی سکول میں بھی کوچنگ نہ ملے‘ عاقب جاوید پھٹ پڑے

 پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باﺅلر اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز لاہور قلندرز کے ڈائریکٹر عاقب جاوید پاکستان کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ میں خراب کارکردگی پر خاصے برہم ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور مینجمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ 1952ءسے لے کر اب تک اتنی کمزور بیٹنگ اور باﺅلنگ دیکھی اور نہ ایسی ٹیم دیکھی جس میں کوئی سٹار ہی نہ ہو، میں نے موجودہ ٹیم کے میچز دیکھنا چھوڑ دئیے ہیں، اس ٹیم کا کوئی امپیکٹ ہی نہیں ہے، آپ ڈھائی برس پہلے کی ٹیم دیکھ لیں وہ کہاں کھڑی تھی، اس ٹیم کا کپتان سرفراز احمد تھا، وہاں سے گرتے گرتے کپتانی اظہر علی کے پاس آتی ہے اور پھر بابر اعظم کے پاس آتی ہے اور اب وکٹ کیپر محمد رضوان کے پاس ہے، کتنا اور گرائیں گے؟

عاقب جاوید نے کہا کہ اس وقت ٹیم کا جو کوچ تھا وہ دنیا کا ایک نامور کوچ مکی آرتھر تھا، وہاں سے آپ مصباح الحق کے پاس گرتے ہیں جنہوں نے ایک دن کوچنگ نہیں کی، بابر اعظم کے پاس کوئی تجربہ نہیں، چیف سلیکٹر انضمام الحق جیسے لیجنڈ تھے، فیصلہ کرنے اور بولنے والے شخص تھے، وہاں سے آپ گرتے ہیں پہلے مصباح الحق اور پھر گرتے ہیں محمد وسیم کے پاس، سب کے سامنے ہے، پتہ نہیں ابھی ہم نے اور کتنا گرنا ہے۔

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ وقار یونس کا 10 برسوں میں یہ مختلف عہدوں پر پانچواں دور ہے، وہ کبھی ہیڈ کوچ ہوتے ہیں تو کبھی باﺅلنگ کوچ، دیکھا جائے تو انہیں پہلی مرتبہ بھی کسی نے کیوں کوچ لگایا کیونکہ کوچنگ ایک پروفیشن ہے اور کوچ بننے کیلئے کم عمری میں ہی نچلی سطح پر کام کرنا پڑتا ہے، کوچنگ کورسز ون ٹو ، تھری، فور کرنا پڑتے ہیں اور آپ کو منتخب کرنا پڑتا ہے کہ آپ کا مستقل پروفیشن کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل میں تو وقار یونس کمنٹیٹر ہیں، بیچ میں جہاں انہیں موقع ملتا ہے تو کوچنگ میں آجاتے ہیں، وہ پاکستان ٹیم کی کوچنگ چھوڑ کر پھر کہیں کوچنگ نہیں کرتے اور ٹی وی پر بیٹھ جاتے ہیں، اسی طرح مصباح الحق کو کوچ لگانے والے سے پوچھا جانا چاہیے، کوچ لگانے کا کوئی تو معیار ہونا چاہیے، مجھے یہ دنیا میں کہیں نوکری لے کر دکھائیں، انہیں سکول میں وہ نوکری نہیں دیں گے۔