وفاقی وزیر نےسانحہ مچھ کو سکیورٹی خامی قرار دیدیا

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ 11 افراد کا قتل سکیورٹی کی خامی ہے،اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرھ گھنٹہ جلسہ کیا مگر سانحہ مچھ کی مذمت تک نہیں کی،بلوچستان حکومت مظاہرین سے مذاکرات کررہی ہے،دہشت گردی کا معاملہ سادہ نہیں ہے،یہ معاملہ افغانستان سے جڑا ہوا ہے،دہشت گردی کسی پارٹی کا مسئلہ نہیں ملک کا مسئلہ ہے،دہشت گردی کے سارے معاملے میں بھارت ملوث ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ن لیگ والوں کو اپنے کیسز کے سوا کچھ نظر نہیں آتا،شہیدوں کے دکھ کو ہم سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا،ان سب کو عمران فوبیاہوگیا ہے،پاکستان میں 11سو سیٹوں پر الیکشن ہوتے ہیں ،جمیت علما اسلام  60 سیٹوں پر بندے کھڑے کرتی ہے،ان کے کہنے پر عمران خان کیوں استعفی دے؟ہمارے خلاف سب ایک پیج پر ہیں،نیب کو ججز کے ریمارکس سنجیدگی سے لینے چاہیے،نیب قانون ن لیگ نے بنایا،نواز شریف نے نیب کا  قانون متعارف کروایا،نیب کا چئیرمین اور چپڑاسی تک دونوں پارٹیوں کے لئے لگائے ہوئے ہیں،جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے وہ اپنے منہ پر مارنا چاہیے۔ایف اے ٹی ایف پر بات ہورہی تھی تو شاہد خاقان عباسی نے نیب ترامیم پیش کیں،حکومت اور اپوزیشن کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا چاہیے،جمہوریت کا تصور اپوزیشن کے بغیر نہیں ہے،اپوزیشن انتخابی اصلاحات پر بات چیت سے مذاکرات شروع کرے۔