جنوبی کوریا میں معصوم بچی کی عصمت دری کرنے والےکی سزا کم کرنے کے بعد رہائی پر عوام میں غم و غصہ

بارہ سال پہلے 11 دسمبر کی صبح ایک آٹھ سالہ بچی جو جنوبی کوریا کے شہر آنسان میں سکول جارہی تھی جب اسے 56 سالہ سابقہ مجرم نے اغوا کر لیا اور اسے قریبی چرچ کے ایک بیت الخلا میں لے گیا جہاں اس نے اسے بے دردی سے مارا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بچی بچ تو گئی لیکن وہ جسمانی چوٹوں اور ذہنی صدمے سے اب تک دوچار ہے۔ لیکن اب ا±س بچی کو اپنا گھر تبدیل کرنا پڑ گیا ہے کیونکہ مجرم کو عدالت نے جیل سے رہا کر دیا ہے اور مجرم کی رہائش مظلوم بچی کی رہائش سے صرف 1 کلومیٹر (0.6 میل) کے فاصلے پر ہے۔

بچی کے باپ نے بتایا کہ”ہم اپنا علاقہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ میں یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہوں کہ حکومت نے کچھ نہیں کیا بلکہ متاثرہ لڑکی کو روپوش ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور کیا ” بچی کے والد نے عدالت کی طرف سے مجرم کی سزا کو کم کر کے 12 سال کرنے پر بھی دکھ کا اظہار کیا۔

بچی کے والد نے مزید کہا کہ بچی دوسری جگہ منتقل ہونے سے گریزاں تھی کیونکہ وہ اپنے قریبی دوستوں کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ کنبہ منتقل ہو کر اپنی شناخت ظاہر کرنے سے بھی ڈر رہا ہے لیکن انہوں نے محسوس کیا ہے کہ اب ان کے پاس یہی واحد آپشن ہے۔

 انہوں نے کہا ،بہت سال گزر چکے ہیں لیکن پھر بھی کچھ نہیں بدلا ہے۔ اب بھی جرم کا بوجھ پوری طرح سے متاثرہ شخص پر پڑتا ہے۔شرابی کو نشے کا بہانہ بنا کر معاف یا کم سزا دی جاتی ہے ۔اس معاملے کی وجہ سے جنسی مجرموں پر نرمی کرنے پر ملک کے عدالتی نظام پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔