بکری چور جیل چلا جاتا ہے،بڑی کرپشن کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں،سپریم کورٹ،ڈاکٹر ڈنشا اورجمیل بلوچ کی ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاﺅنٹس سے متعلق کیس میں ملزمان ڈاکٹر ڈنشا اورجمیل بلوچ کی ضمانت منظور کرلی ۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ نیب کے پاس اپنی مرضی سے کام کرنے کا اختیار نہیں،ملک کو بچانا ہے یا نہیں؟ملک میں بکری چور 5 سال جیل چلا جاتا ہے،اتنی بڑی کرپشن کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔

دوان سماعت سپریم کورٹ نے کہاکہ ڈاکٹر ڈنشا ملک سے باہر نہیں جا سکتے،ڈاکٹر ڈنشا نیب کے ساتھ تفتیش میں تعاون کریں گے،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہاکہ ڈاکٹر ڈنشا کی ضمانت کی مخالفت نہیں کرتے ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے،نیب چھوٹے افسران کو پکڑ لیتاہے اصل فائدہ لینے والے کو نہیں پکڑتا،نیب کے پاس اپنی مرضی سے کام کرنے کا اختیار نہیں،ملک کو بچانا ہے یا نہیں؟ملک میں بکری چور 5 سال جیل چلا جاتا ہے،اتنی بڑی کرپشن کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں، سکینڈل کے اصل ملزم پر نیب نے ہاتھ نہیں ڈالا،عدالت نے کہاکہ نیب نے اپنی مرضی کرنی ہے تو سیکشن 9 میں ترمیم کرے پھر جو مرضی کرے۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہاکہ ملزم کو پکڑ کر 24گھنٹے میں احتساب عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پراسیکیوٹرسے استفسارکیا کہ ملک کے ساتھ نیب کیا کر رہا ہے؟،کرتا نیب ہے بھگتی سپریم کورٹ ہے،ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آتا ہے۔

جسٹس منظور ملک نے کہاکہ اندراج مقدمہ کے بعد اس کو پکڑو، پولیس ایسے کام مت کرے،پولیس کو کسی خوف میں کام کرنے کی ضرورت نہیں ،تفتیش کرنا عدالت کاکام نہیں ،پولیس کو دباﺅ میں آکر نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے۔