بچی کو عمارت سے پھینک کر خودکشی کی کوشش کرنے والی ماں کا پہلا بیان سامنے آ گیا

اپنی بچی کو چھٹی منزل سے نیچے پھینکنے اور خود بھی کود جانے والی گلشن اقبال کی رہائشی خاتون نے کہا ہے کہ نشے کے پیسے نہ ہونے اور کرائے کا گھر خالی ہونے کا نوٹس ملنے پر بچے کو مارنے اور خودکشی کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ہم دونوں بچ گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گلشن اقبال کے علاقے میں اپنی دو سالہ بیٹی کو عمارت سے پھینک کر خودکشی کی کوشش کرنے والی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایس ایچ او گلشن اقبال سہیل شہزاد کے مطابق ہفتہ کو گلشن اقبال بلاک 13 ڈی میں 33 سالہ مریم نامی خاتون نے اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی ایمان کو عمارت سے نیچے پھینک دیا تھا جسے علاقہ مکینوں نے چادر ڈال کر بچالیا اور معجزانہ طور پر بچی کو ایک خراش تک نہیں آئی،بعد ازاں خاتون کچھ دیر تک بالکونی میں لٹکی رہی اور چھلانگ لگادی، وہ بجلی کے تاروں سے الجھتی ہوئی نیچے گرنے سے زخمی ہوگئی جسے مکین نجی ہسپتال لے گئے اس کے بعد سرکاری ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ایس ایچ او سہیل شہزاد نے بتایا لڑکی کا تفصیلی بیان لے لیا گیا، لڑکی نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ پہلے سگریٹ پیتی تھی اس کے بعد وہ مختلف اقسام کی منشیات پینے لگی، آٹھ سال پہلے اس کے پہلے شوہر حسن شہزاد کے قتل میں وہ گرفتار ہوکر جیل کاٹ چکی ہے، ضمانت پر آنے کے بعد اس نے ایک شخص سے شادی کرلی جس سے ڈیڑھ سالہ ایمان ہے۔

خاتون نے بتایا کہ کچھ دنوں سے اس کا شوہر بھی گھر نہیں آرہا تھا اور وہ نشے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پریشان تھی اور مالک مکان گھر خالی کرانے کا نوٹس بھی دے دیا تھا جس کی وجہ سے اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ بچی کو عمارت سے پھینکنے کے بعد وہ خودکشی کرلے گی تاہم معجزانہ طور پر بچی بچ گئی اور خود زخمی ہوگئی۔

گلشن اقبال پولیس نے لڑکی کا بیان لینے کے بعد اس کے خلاف اپنی حقیقی بیٹی کو قتل کرنے کی نیت سے عمارت سے نیچے پھینکنے کا اقدام قتل کی دفعہ 324 اور خودکشی کرنے کی دفعہ 325 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ لڑکی ابھی بھی نشے کی وجہ سے تڑپ رہی ہے اور بار بار نشہ آئس مانگنے کی بات کرتی ہے جس کی وجہ سے لڑکی متضاد بیان دے رہی ہے، نشے کی وجہ سے زخمی مریم نے اپنے متعدد دوستوں کے نام بتائے مگر اس کے پاس نمبر کسی کا بھی نہیں ہے جبکہ گھروالوں کا پتا بھی یاد نہیں ہے، 3 دن گزر جانے کے باوجود کسی بھی شخص نے لڑکی سے رابطہ نہیں کیا، اس سلسلے گلشن اقبال انویسٹی گیشن آفیسر مزید تفتیش کر رہے ہیں۔