پنجاب پولیس کی خاتون ایس پی عائشہ بٹ اپنے محکمے کیخلاف بول پڑیں

 پنجاب پولیس کی خاتون ایس پی عائشہ بٹ اپنے ہی محکمے کے خلاف بول پڑیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایس پی عائشہ بٹ نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے تاہم بعد میں انہوں نے یہ ٹوئیٹ ڈیلیٹ کردی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق اپنے ٹوئٹ میں ایس پی عائشہ بٹ کا کہنا ہے کہ ذاتی پسند ناپسند پر ٹرانسفر اور پوسٹنگ محکموں کو برباد کر رہی ہے، پسند نا پسند کی بنیاد پر افسروں کا کیریئر بھی متاثر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افسوس! اس بات کو چھپانے کے لیے کرپشن اور کام نہ کرنے کا الزام لگا دیا جاتا۔عائشہ بٹ پولیس ٹریننگ کالج میں ایس پی ٹریننگ تعینات ہیں جنہوں نے کہا کہ دیگر محکموں میں بھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔بعد میں ایس پی عائشہ بٹ نے اپنا مذکورہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا۔

ایس پی عائشہ بٹ کے شوہر عبدالوہاب لاہور میں ایس پی انویسٹی گیشن تعینات ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ عبد الوہاب کو سابقہ سی سی پی او عمر شیخ کے کہنے پر ہی تعینات کیا گیا تھا، تاہم عمر شیخ نے میاں بیوی دونوں کی اکٹھی پوسٹنگ پر اعتراض کیا تھا۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ عائشہ بٹ نے ڈاکٹر انوش اور بلال قیوم کے جانے پر ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن کی سفارش بھی کروائی لیکن انہیں پوسٹنگ نہیں ملی۔