پنجاب میں قبضوں کے واقعات میں اراکین اسمبلی ہی ملوث نکلے،کون کونسے ممبران شامل ہیں؟ آپ بھی جانیں

محکمہ اینٹی کرپشن کی طرف سے پنجاب حکومت کو بھجوائی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب بھر میں سرکاری اراضی پر اراکین اسمبلی نے اپنے عزیز رشتے داروں اور فرنٹ مینوں کے ذریعے قبضے کیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ( ن)کے اراکین سرکاری زمین پر قبضہ کرنے والوں میں سر فہرست ہیں، جن کے سابقہ اور موجودہ اراکین اسمبلی نے قبضے کیے اور اس اراضی پر  شادی ہال، غیر  قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں،  پٹرول پمپس، فارم ہاوس، کمرشل مارکیٹ، وین بس اسٹینڈ اور سینما گھر بنا رکھے تھے۔مجموعی طور پر ان اراکین اسمبلی اور ان کے عزیز رشتے داروں نے  460 ایکڑ 5 ہزار 522 کینال اور 64 مرلے اراضی پر قبضہ کر رکھا تھا۔ 

رپورٹ کے مطابق قبضہ کرنے والے محکمہ ریوینیو،ضلعی و صوبائی حکومت اور مختلف محکموں کے افسران کی ملی بھگت سے اراضی پر قبضہ کر تے تھے۔محکمہ اینٹی کرپشن نے جن موجود اور سابقہ رکن اسمبلی کے خلاف مقدمات درج کرنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی ان میں  خواجہ محمد آصف، بیگم خواجہ آصف، خواجہ آصف کا بیٹا  محمد اسد، ملک سیف الملوک کھوکر، مبشر مبین ،میاں نصیر احمد ،محمد طارق، نصراللہ بشارت،رانا مبشر، میاں جاوید لطیف،  احسان رضا خان، وسیم اختر،ر غلام دستگیر، محمد قاسم بٹ ، اخلاق بٹ، شیخ ثروت اکرام،  محمد لطیف، مظہر قیوم ناہرہ،  شہباز احمد چٹھ، ذیشان  زیب بٹ، مختار احمداور دیگر شامل ہیں۔ 

محکمہ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد  گوہر نفیس کے مطابق سرکاری اراضی پر قبضہ کر نے والوں کے خلاف کارروائی قانون کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور بلا تفریق کارروائی جاری ہے۔