کیا ترکی اویغور مسلمانوں کو چین کے حوالے کرنے جا رہا ہے؟

چین اور ترکی نے سنہ 2017 میں شہریون کی حوالگی سے متعلق دو طرفہ معاہدے پر دستخط کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت ‘کچھ مہاجرین’ اور ان ‘اویغور مسلمانوں’ کو واپس چین بھیجنے کی بات کی گئی ہے جن پر ‘دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے’ کا شبہ ہے۔

گذشتہ سنیچر کے روز چینی پارلیمنٹ نے حوالگی کے اس معاہدے کو منظور کر لیا ہے جبکہ ترکی کی پارلیمان نے ابھی تک اس کی توثیق نہیں کی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے سے چین ترکی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے اویغور مسلمانوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

Leave a Reply