پنجاب پبلک سروس کمیشن کے پرچے لیک کرنے والے ملزمان کے چشم کشا انکشافات،اعلیٰ سرکاری افسران خطرے میں پڑ گئے

پنجاب پبلک سروس کمیشن امتحانی نظام کی ساکھ مشکوک ہوگئی ،ملزمان نے لیکچرارایجوکیشن,کمیسٹری,تحصیلدار,ڈپٹی اکاونٹس آفیسر,انسپکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سمیت 12پرچے فروخت کرنے کا انکشاف کر دیا اینٹی کرپشن کے سٹنگ آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے ملزمان کے چشم کشا انکشافات سامنے آگئے۔

لنے والی معلومات کے مطابق ملزمان نے 12 اہم آسامیوں کے پرچے لیک کرنے کا انکشاف کردیا۔اینٹی کرپشن میں انسپکٹرز کی 8 آسامیوں اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی آسامی پر بھرتیوں کا عمل بھی مشکوک ہوگیااینٹی کرپشن میں انسپکٹرز کی آسامیوں پر کامیاب ہونے والے دونوں ٹاپرز بھی پرچہ خرید کر کامیاب ہوئے۔اہم انکشاف پر محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران سر پکڑ کر بیٹھ گئے ،ذرائع کے مطابق انسپکٹر اینٹی کرپشن کی آسامی کے پوزیشن ہولڈر محمد کامران حنیف,انسپکٹرجہانزیب بھی لیک پرچہ خریدنے والے امیدواروں میں شامل ہیں۔ اینٹی کرپشن کے پرچے آوٹ کرنے کیلئے امیدواروں سے فی کس 5لاکھ روپے رشوت لی گئی ۔اینٹی کرپشن نے پی پی ایس سی کے گرفتار ڈیٹا اینٹری آپریٹر وقار اکرم کے بیانات پر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کردیا۔پرچہ لیک ہونے کے سکینڈل میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اعلیٰ افسران کے ملوث ہونے کا قوی امکان ہے۔اینٹی کرپشن نے پی پی ایس سی کے ڈیٹا اینٹری آپریٹر کے دوست غضنفر,گوہر اور مظہر کو گرفتار کررکھاہے معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔سکینڈل کے تمام کرداروں کو جلد بے نقاب کریں گے:ڈائریکٹر ویجیلسن نے عندیہ دیدیا۔