وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ کو حوالگی کی درخواست پر برطانوی عدالت نے تہلکہ خیز فیصلہ سنادیا

 اولڈ بیلی کی عدالت نے امریکہ کی وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی حوالگی کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد عدالت کے باہر جولین اسانج کے حامیوں کی طرف سے جشن کا سماں ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ جولین اسانج کی دماغی صحت اس قابل نہیں کہ انہیں امریکہ کے حوالے کریں۔

تفصیلات کے مطابق وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے7 برس لندن میں ایکویڈورکے سفارتخانے میں بطورسیاسی پناہ گرین گزارے اور امریکہ نے ان کی حوالگی کے لیے برطانوی عدالت میں دائر درخواست پر 2007ءکے بعد وار کرائمز کی تفصیلات چھاپنے ، جاسوسی اور ہیکنگ سمیت مختلف قسم کے 18الزامات عائد کیے تھے ۔ جولین اسانج کی امریکہ سپردگی پر انہیں 175سال قید کی سزا متوقع تھی۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق عدالت کی طرف سے امریکی ریکوئسٹ بلاک ہونے پر اولڈ بیلی کی عدالت کے باہر جولین اسانج کی حمایت میں پئیر کوربن کے علاوہ بڑی تعداد میں موجود حمایت کرنے والوں نے جشن منایا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جولین اسانج نے آٹھ سال اسیری کی زندگی گزاری، پچھلے ہفتے عدالت کو بتایا گیا تھاکہ انہیں وٹامن ڈی بھی نہیں ملا ، وہ جس طرح کے حالات میں رہے ،ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ الیگزینڈریا میں سکرونٹی کے حالات سے گزرسکیں ۔امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس  نے قانون کو توڑا اور زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔ مسٹر اسانج نے حوالگی کی جنگ لڑی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی طور پر محرک ہے، مجھے فوراً تحفظ دیا جائے ۔

برطانوی عدالت کے اس فیصلے کو تاریخی رولنگ قراردیاجارہاہے کیونکہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان معاہدہ موجود ہے ، یہی امکان ظاہر کیا جارہاتھاکہ معاہدوں کی وجہ سے جولین اسانج کو امریکہ کے سپرد کردیاجائے گا لیکن عدالت نے قراردیا ہے کہ تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جولین اسانج کو امریکہ نہیں بھیجا جاسکتا۔دوسری طرف امریکی حکام نے کہا ہے کہ فیصلے پر اپیل کی جائے گی۔