نیب حراست میں 13 افراد کی ہلاکت کا معاملہ، شہزاد اکبر سینیٹ میں ثبوت لے آئے

مشیرداخلہ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ مجھے حیرانی  ہوئی کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جانب سے کہا گیا کہ نیب کی حراست میں 13 افراد جاں بحق ہوئےیہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کی وضاحت کر دوں کہ 11 افراد کی موت جوڈیشل ریمانڈ میں ہوئی تھی جبکہ 2 اموات نیب کے لاک اپ میں ہوئیں، جوڈیشل ریمانڈمیں کسی کی موت کانیب ذمہ دارنہیں۔ بریگیڈیئر(ر) اسد کی موت ان کے گھر پر ہوئی۔ 

 مشیرداخلہ شہزاد اکبر نے سینیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیٹف قانون سازی کولےکرنیب قانون میں ترمیم کی بات کی گئی، نیب آرڈیننس ہم نہیں لائے1999سےنافذہے، ہمارے2سالہ دورمیں نیب نے389بلین کی ریکوری کی، اینٹی کرپشن پنجاب نے 27ماہ میں206ارب کی ریکوری کی۔ ان کا کہنا تھاکہ ہمارے اوپر الزام لگایا جاتا ہے کہ انتقامی کارروائی کی جارہی ہے، میں کہتا ہوں کہ اگر انتقامی کارروائی ہورہی ہے تو عدالت میں جا کر چیلنج کریں۔

شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ آمدن سےزائداثاثوں کاقانون بطورجرم موجود ہے، دنیاکےدیگرممالک میں بھی احتساب کاعمل جاری ہے، کچھ ممالک میں توعمرقیدکی سزا دی جاتی ہے، ارجنٹائن میں عمربھرکی نااہلی جبکہ پاکستان میں 10سال نااہلی کاقانون ہے۔