مچھ میں 13 مزدورں کا قتل ، کڑیاں کہاں ملتی ہیں اور اس سازش کا اصل مقصد کیا ہے؟سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے مچھ میں ہزار براداری سے تعلق رکھنے والے 13 مزدوروں کے قتل کے دلخراش واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے،اس کی تمام تر کڑیاں عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف ہونے والی اُن سازشوں سے جا ملتی ہیں جن کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے، اِن عناصر کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہزارہ برادری پر حملہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پیدا کرنے کیلئے دشمن کی جانب سے ایک گھناؤنی سازش ہے۔

سینیٹر رحمان ملک نے بے گناہ افراد کے قتل پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہزار برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس سلسلے میں تمام فرقوں سے اپیل ہے کہ دشمن کی چالوں میں نہ آئیں کیونکہ ملک دشمن عناصر سیاسی، نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بد نظمی کو فروغ دینا چاہتے ہیں، اُنہوں نے وزیراعظم کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں اپیل کی ہے کہ بھارت کی جانب سے غلط اور بے بنیاد پروپیگینڈے کے خلاف اقوام متحدہ میں مسئلہ اٹھایا جائے، بھارت پاکستان کے خلاف ہایبرڈ وار میں ملوث ہے، ہمیں اس سلسلے میں مزید خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔ 

سینیٹر رحمان ملک نے  اسلام آباد پولیس کے ہاتھوں اسامہ ندیم ستی کے مبینہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس انتہائی حساس اور اہم نوعیت کا ہے،اس کی تحقیقات ایس ایچ او کی بجائے اعلیٰ سطح کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے، اسلام آبا دپولیس ایک مثالی پولیس کا درجہ رکھتی تھی لیکن اس طرح کے واقعات نے پورے ادارے کا تشخص خراب کیا ہے، ان حالات میں ضروری ہے کہ اسلام آباد پولیس اپنے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لے اور ان خامیوں کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جو اس طرح کے واقعات کا باعث بنتی ہے۔سینیٹر رحمان ملک نے اسلام آباد پولیس سے تحقیقات مکمل کر کے 10 دن میں کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات دیں۔سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ کے اراکین نے بھی اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور اس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو نہی تحقیقات مکمل ہونگی اس پر کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔ کمیٹی میں قانون سازی کیلئے مختلف بل بھی زیر غور آئے۔کریمنل لا ترمیمی بل 2020 کے سیکشن 376 کو زیر بحث لاتے ہوئے بل کے محرک سینیٹر جاوید عباسی نے بتایا کہ مجوزہ بل میں ریپ کیس میں سخت سزائیں او رفوری انصاف کیلئے وقت کا تعین تجویز کیا گیا ہے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے بل کے اغراض ومقاصد اور دیگر اہم امور پر کمیٹی کو آگاہ کیا۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اس ترمیمی بل کے حوالے سے سینیٹر جاوید عباسی کی کاوشیں قابل تعریف ہیں تاہم یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ قانون کا غلط استعمال نہ ہو۔ قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری قانون کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہا ربھی کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہ سیکرٹری قانون اہم قانون سازی کے دوران اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بھی مچھ کے دلخراش واقعہ کی شدید مذمت کی تاہم انہوں نے کمیٹی کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ داخلہ امور سے متعلق وہ کمیٹی سے رہنمائی لیتے رہیں گے۔سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے ریپ کے واقعات سے متعلق قانون سازی پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سخت ترین سزائیں اور فوری انصاف نہیں دلایا جائے گا اس وقت تک اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔کمیٹی نے تحقیقات کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے اور پولیس ٹریننگ کے ساتھ ساتھ شواہد اکٹھے کرنے کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھی زور دیا۔

قائمہ کمیٹی نے سینیٹر جاوید عباسی کی طرف سے پیش کیے گئے کریمنل لاء ترمیمی بل2020 اور سنگین حادثات کے ترمیمی بل 2020 کو بھی زیر غور لایا گیا۔ان تمام قانونی مسودوں پر وزارت قانون سے موقف لینے کیلئے کمیٹی نے مزید بحث اگلے اجلاس تک کیلئے موخر کر دی۔کمیٹی نے اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ پر انکوائری مکمل کرنے پر ادارے کی تعریف کی اور کہا کہ بطور چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی انہوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی اربوں روپے کی بدعنوانی پر ازخود نوٹس لیا تھا اور اس پر وزارت داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ جون میں پیدا ہونے والے تیل کے بحران پر ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا،ایف آئی اے نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کا تعین کر دیا تھا اور اس سلسلے میں ایف آئی اے کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، کمیٹی ان اسباب اور عوامل پر غور کرے گی جو اتنی بڑی سطح پر بد عنوانی کی وجہ قرار دیے گئے ہیں، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اوگرا، کسٹم اور دیگر ملوث حکام کی ملی بھگت کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے اور ان ذمہ داران کے خلاف جن کی نشاندہی ایف آئی اے کی رپورٹ میں ہوئی کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، تیل کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کی وجہ سے قومی خزانے کو 250 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، اس پوری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پارلیمان خاموش نہیں رہ سکتی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے غریب آدمی ناقابل برداشت بوجھ پڑا،عالمی منڈی میں تیل سستا تھا تو حکومت نے زیادہ مقدار میں کیوں نہیں خریدا؟ ان ذمہ داران کی بھی تفتیش کی جائے جنہوں نے پڑوسی ملک سے اتنی بھاری مقدار میں تیل درآمد کرنے کی اجازت دی تھی،اگر ضرورت پڑی تو اس سلسلے میں ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی جو اس پورے معاملے کو زیر بحث لا کر اپنی رپورٹ بنائے۔

 کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز محمد جاوید عباسی، میاں محمد عتیق شیخ، رانا مقبول احمد، ڈاکٹر شہزاد وسیم اور سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔