ریپ کیس کی تصدیق کیلئے ٹو فنگر ٹیسٹ، لاہور ہائیکورٹ نے تہلکہ خیز فیصلہ سنادیا

لاہور ہائیکورٹ نے ریپ کی تصدیق کیلئے ٹو فنگر ٹیسٹ غیر قانونی قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان نے شائستہ پرویز اور شہری صدف عزیز کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ریپ کیس میں ٹو فنگر ٹیسٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اب جدید ٹیکنالوجی آچکی ہے ایسے میں فنگر ٹیسٹ کا جواز نہیں بنتا۔ عدالت نے ریپ کیس کی تصدیق کے متبادل انتظامات ہونے تک فنگر ٹیسٹ روک دیے۔ درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ ریپ کیس کی تصدیق کیلئے فنگر ٹیسٹ پر ایک عرصے سے بحث جاری تھی۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے ڈاکٹر متاثرہ کنواری کی اندام نہانی میں اپنی دو انگلیاں داخل کرکے یہ تصدیق کرتے ہیں کہ آیا پردہ بکارت ٹوٹا ہوا ہے یا سلامت ہے۔ اس ٹیسٹ پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ اگر کسی شادی شدہ خاتون کے ساتھ زیادتی ہو تو اس کے پردہ بکارت کی سلامتی کی تصدیق کیسے ہوسکتی ہے؟