بچوں کے ڈیٹا کا غیر قانونی استعمال: انگلینڈ میں بارہ سالہ گمنام لڑکی کا ٹک ٹاک پر مقدمہ

ایک 12 سالہ بچی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی بچوں کے ڈیٹا کو غیر قانونی طور پر استعمال کر رہی ہے۔

عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ مقدمہ آگے بڑھنے کی صورت میں لڑکی کی شناخت کو پوشیدہ رکھا جا سکتا ہے۔

انگلینڈ میں چلڈرن کمشنر این لانگ فیلڈ اس کارروائی کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک نے برطانیہ اور یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کو توڑا ہے۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے ان کی کمپنی نے ’مضبوط پالیسیاں‘ بنا رکھی ہیں اور 13 سال سے کم عمر بچوں کو ایپ کا صارف بننے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

لانگ فیلڈ کو امید ہے کہ یہ مقدمہ 16 سال سے کم عمر ان افراد کے لیے حفاظتی اقدامات کا باعث بنے گا جو انگلینڈ اور دیگر ممالک میں اس ایپ کا استعمال کر رہے ہیں۔

Leave a Reply