آنے والے کچھ ہفتے پاکستان کے لئے نہایت ہی نازک،شیعہ سنی دشمن کی چالوں میں نہ آئیں،سینیٹر رحمان ملک نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہزارہ برادری کے تیرہ بیگناہ افراد کا بیہمانہ قتل نہایت ہی افسوس ناک اور ملک میں فرقہ وارانہ فسادات پیدا کرنے کا دشمن کی سازش ہے،شیعہ سنی سے اپیل ہے کہ دشمن کی چالوں میں نہ آئے، آنے والے کچھ ہفتے پاکستان کے لئے نہایت ہی نازک ہیں،وزیراعظم ہوش سے کام لے اور اپنا بڑا کردار ادا کرے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک  نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملے میں بیگناہ افراد کے شہادتوں پر دلی دکھ، درد و افسوس ہوا ہے، ہزارہ برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں،ملک اسوقت غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے،دشمن ملک کو سیاسی، نسلی اور فرقہ واریت کی بنیادوں پر غیرمستحکم کرنے کی کوشش میں ہے، میں نے آج وزیراعظم کو پہلے خط کا یاددہانی خط بھیجا ہے،وزیراعظم کو چاہئے کہ ملک میں اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا کرے،  وزیراعظم آصف علی زرداری سے سیکھے جو اس طرح کی صورتحال سے کیسے ملک کو نکالا کرتے تھے،وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ڈس انفو لیب کے انکشافات کی بنیاد پر بھارت کیخلاف اقوام متحدہ میں جائے،کئی سالوں سے  کہتا آرہا ہوں کہ بھارت پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وار میں ملوث ہے،میں حکومت سے بھارت کے سائبر کرائمز کیخلاف اقوام متحدہ میں جانے کا مطالبہ دہراتا ہوں۔

سینیٹر رحمان ملک  نے کہا کہ آج میں نے سیکرٹری داخلہ کو ایک اور خط لکھا ہے،خط میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان سے محترمہ بینظیر بھٹو قتل میں ملوث خوکش حملہ آور کے حوالگی کا مطالبہ کرے،جے آئی ٹی کے مطابق ٹی ٹی پی اور القاعدہ نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا،  محترمہ بینظیر بھٹو کی قتل کا سازش میران شاہ میں ٹی ٹی پی کے سربراہ بیت اللہ محسود اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا تھا،جی آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کی کاپی وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کے پاس موجود ہے، مذکورہ تحقیقات کے مطابق بیت اللہ محسود نے دو خود کش حملہ آور محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کیلئے بھیجے تھے،خودکش حملہ آوروں میں ایک بلال المعروف  سعید نے لیاقت باغ میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا،بلال المعروف سعید کے خودکش دھماکے کے نتیجے میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی،دوسرا خودکش حملہ آور اکرام اللہ جائے وقوع سے فرار ہوگیا تھا اور  اس وقت افغانستان کے صوبے پکتیا میں رہائش پذیر ہے۔ سینیٹر رحمان ملک  نے کہا کہ میں نے 30 دسمبر ، 2018 کو اسوقت کے وزیر داخلہ کو خط لکھا تھاجس  میں وزیرِداخلہ سے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت افغانستان سے اکرام اللہ کو پاکستان کی حوالگی کا مطالبہ کیا جائےتاکہ اکرام اللہ  کا عدالت، متعلقہ اداروں اور تفتیش کاروں کے سامنے  بیان ریکارڈ کروایا جائے، 

 اکرام اللہ سے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل کے متعلق اضافی شواہد ملے گے جس سے مقدمے کو تقویت ملے گی، ایف آئی اے کے توسط سے انٹرپول سے درخواست کیا جائے کہ وہ اکرام اللہ کے ریڈ نوٹس جاری کرے،انٹرپول کے ذریعے اکرام اللہ کو افغانستان سے پاکستان لایا جائے۔

Leave a Reply