سابق فوجی افسران سمیت متعدد افراد سعودی عرب میں گرفتار، الزامات کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں “کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی” (نزاہہ) نے اعلان کیا ہے کہ  حالیہ عرصے کے دوران بدعنوانی سے متعلق مقدمات میں ملوث ایک سابق مختار وزیر، افسران اور ذمے داران کو حراست میں لیا گیا۔ ان مقدمات کا تعلق دھوکہ دہی، جعل سازی، رشوت اور مالی خرد برد سے ہے، مقدمات میں ملوث جن افراد کو حراست میں لیا گیا ان میں سابق فوجی افسران، وزارت داخلہ کا سابق مشیر، کاروباری شخصیات، عرب شہریت رکھنے والے غیر ملکی، مقامی سعودی شہری، سعودی ہلال احمر میں مالیاتی اور انتظامی امور کا سابق ڈائریکٹر جنرل، ایک سابق مختار وزیر، ایک سابق سفیر، وزارت خارجہ کے دو ملازمین، جنرل اتھارٹی آف زکات اینڈ ٹیکس کا ایک ملازم، ایگزیکیوشن کورٹ کا ایک ملازم، ایک سرکاری یونیورسٹی ملازمین، ایک ضلعی میونسپل سربراہ، ڈائریکٹریٹ آف پاسپورٹس اور ڈائریکٹریٹ آف نارکوٹکس کے دو نان کمیشنڈ افسران، سعودی بحریہ کے دو افسران اور نیشنل اینٹی نارکوٹکس کمیٹی کا سابق سکریٹری جنرل شامل ہے۔

العربیہ کے مطابق نزاہہ کے ایک عہدے دار نے بیان میں بتایا کہ اتھارٹی نے مذکورہ عرصے میں متعدد فوجداری مقدمات شروع کیے اور ملوث افراد کے خلاف ضابطے کے اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔اتھارٹی نے یہ بھی باور کرایا ہے کہ وہ سرکاری مال یا منصب کو ناجائز طور پر اپنے مفاد میں استعمال کرنے والے ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا سلسلہ جاری رکھے گی ،خواہ یہ افراد ملازمت میں موجود ہوں یا سبک دوش ہو چکے ہوں۔

Leave a Reply