’حکومت میں آنے سے پہلے تیاری کرنی چاہیے‘وزیراعظم عمران خان نے اپنے اس بیان کی خود ہی وضاحت کردی

اسلام آباد وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’ تیاری نہیں تھی‘ والی بات کو غلط رنگ دیا گیا،امریکہ میں الیکشن کے بعد صدر کو بریفنگ دی جاتی ہیں،جب وہاں صدر حلف اٹھاتا ہے تو وہ حالات سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے،جوبائیڈن دو بار نائب صدر رہ چکا مگر اب بھی اُس کو بریفنگ دی جارہی ہیں،میری بات کا مقصد تھا کہ حلف اٹھانے سے قبل وزارتوں کے حوالے سے بریفنگ  دی جائے،گلگت بلتستان میں دو ماہ ہوگئے اب تک ادارے نئی حکومت کوبریفنگ دے رہے،اگر امریکہ میں کوئی اچھی چیز ہورہی ہے تو ہمیں بھی کرنی چاہیے اڑھائی ماہ نہیں تو چھ ماہ بریفنگ  دی جائے۔

نجی ٹی وی کو دیئے جانے والے خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جب وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تو واضح کردیا تھا کہ پاکستان میں مسائل کا حل آسان نہیں ہے، میرے’ تیاری نہیں ہے‘  سے متعلق بیان کو غلط انداز میں لے کر اُسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا،امریکی صدر جوبائیڈن ابھی اقتدارمیں نہیں آئے مگر انہیں گزشتہ ڈھائی ماہ سے ادارے بریفنگ دے رہے ہیں، جب امریکی صدراقتدارسنبھالےگاتو اسےاداروں کی مکمل معلومات ہوں گی، میں نےاِس قسم کی بریفنگ کےبارے میں بات کی تھی جسےکوئی اور مطلب دیا گیا اور تیاری نہ ہونے کو بنیاد بنا کر اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، اب جوبائیڈن جب صدارت سنبھالے گا تو اُس کی پوری تیاری ہوگی،میں نےکبھی بہانہ نہیں بنایاکہ میری تیاری نہیں تھی،میری بات کا مقصد یہ تھا کہ نظام کی اصلاحات کے لیے ضروری ہے کہ ادارے حکومت کو بریفنگ دیں۔

انہوں نے کہا کہ گھر پر قرض چڑھتا ہےتو اس کو چلانا مشکل ہوجاتا ہے،خرچےکم کرتےہیں توگھرمیں تکلیف ہوتی ہے،ہماری آدھی ٹیکس آمدن قرضوں کی قسط اتارنے میں چلی گئی، کوئی ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہو تو اُس کے باسیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ماضی کے حکمرانوں نے تمام اداروں کو دیوالیہ کیا، جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا،ملکی مسائل کا کوئی آسان حل نہیں ہے،سال 2008ء سے قرض چڑھنا شروع ہوا،آمدنی کم اور خرچے زیادہ ہونے سے قرض چڑھے،کوئی بیوقوف ہی ہوگا جسے یہ پتہ نہ ہو کہ ملک کے کیا مسائل ہیں؟قرض اتارنے کے لئے مشکل وقت سے گزرنا پڑتا ہے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے دورمیں چار گناملکی قرضہ بڑھا،جب حکومت میں آئے تو پتہ چلا پی آئی اے کا قرض چار سو پچاس  ارب  ہے، سٹیل ملز پر قرضہ تھا،ملک کے دو بڑے مسئلے فسکل خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہیں،بیرونی قرض کی ادائیگی کے لئے پیپلز پارٹی نے اڑھائی  ،ن لیگ نے پانچ اور ہم نے دس ارب ڈالر قرض سالانہ واپس کرنے ہیں،400 ارب کاخسارہ وہ تھا جو کاغذوں میں درج ہی نہ تھا،ہماری ایکسپورٹ بڑھی ہیں،اب ہمار ا روپیہ سنبھل گیا ہے۔

اتحادیوں سے تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)مسلم لیگ ق اور جی ڈی اے کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں،وہ ہمارے اتحادی ہیں اور مستقبل میں بھی رہیں گے، وہ ہمارے منشور کے ساتھ چل رہے ہیں ، میری زندگی کے مشکل ترین دو سال تھے جو گزر گئے،میری لڑائی الطاف حسین کے خلاف تھی،باقی ایم کیو ایم اس سے علحیدہ ہوگئی ،میں ایم کیو ایم سے خوش ہوں،جب سے حکومت میں آئے ہیں تب سے جانے کی تاریخیں دی جارہی ہیں،کورونا آنے پر اپوزیشن نے جشن منایا کہ اب تو عمران خان کی حکومت گئی،شہباز شریف بھاگ کر ملک پہنچے،یہ اس لئے واپس آئے کیونکہ انکو یقین تھا کہ حکومت جارہی ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا کام لوگوں کی زندگیاں بہتر کرنا ہیں،تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں،اگر ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تو لوگ افسران اور وزیروں کی تبدیلی کو بھول جائیں گے، کپتان ٹیم بدلتا رہتا ہے،مجھے میچ جیتنا ہے،منزل حاصل کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں سمجھوتہ ضروری ہے مگر این آر او پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، میرےکسی وزیرپرکرپشن کا الزام لگے تو کارروائی کروں گا،  جہانگیر ترین کے خلاف میرٹ پر فیصلے ہوں گے، میں کرپشن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔

Leave a Reply