جسم فروش خاتون کو بھیجے گئے شرمناک میسجز پکڑے جانے پر بھارتی شہری کو نیوزی لینڈ سے ڈی پورٹ کردیا گیا، دو نمبری پکڑی گئی

ولنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) نیوزی لینڈ میں جھوٹ بول کر ورک ویزا کے حصول کی کوشش کرنے والے بھارتی نوجوان کے خلاف تحقیقات میں ایسا شرمناک انکشاف سامنے آ گیا کہ اسے ملک بدر کرنے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ 28سالہ بھارتی نوجوان، جس کی شناخت صرف ’جے ایس‘ سے ظاہر کی گئی ہے، 2012ءمیں سٹوڈنٹ ویزے پر نیوزی لینڈ گیا تھا اور2019ءمیں اس نے پارٹنرشپ ورک ویزے کے لیے درخواست دی تھی۔

اس نے حکام کو بتایا تھا کہ وہ 2015سے ایک مقامی خاتون کے ساتھ تعلق میں ہے اور دونوں اس تعلق کو طویل مدت کے لیے رکھنا چاہتے ہیں چنانچہ اسے نیوزی لینڈ میں رہنے اور کام کرنے کے لیے پارٹنر شپ ورک ویزا دیا جائے۔ جب حکام نے اس نوجوان اور اس کی مبینہ پارٹنر کے انٹرویوز کیے تو شبہ گزرا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے متعلق کافی معلومات نہیں رکھتے تھے۔ اس پر نوجوان کی ورک ویزے کی درخواست مسترد کر دی گئی جس پر خود نوجوان نے ہی امیگریشن اینڈ پروٹیکشن ٹربیونل سے رجوع کر لیا۔ 

جب ٹربیونل نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ یہ نوجوان جسم فروش خواتین کو شرمناک پیغامات بھیجتا رہا تھا۔ جب اس سے اس بابت پوچھا گیا تو اس نے یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی کہ وہ جسم فروش عورتوں کو یہ پیغامات بس تفریح طبع کے لیے بھیجتا رہا ہے۔تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جس خاتون کے ساتھ وہ اپنا طویل مدتی تعلق ظاہر کر رہا تھا، اسے بھی اس نے پیسے دے کر اس کام پر آمادہ کیا تھا اور دونوں ایک دوسرے کو زیادہ جانتے بھی نہیں تھے۔ ان انکشافات کے سامنے آنے پر ٹربیونل نے نوجوان کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

Leave a Reply